(۱۴۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَأَلَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَۃٍ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ اخْتَلَعَتْ مِنْہُ أَیَتَزَوَّجُہَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذَکَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلاَقَ فِی أَوَّلِ الآیَۃِ وَآخِرِہَا وَالْخُلْعَ بَیْنَ ذَلِکَ فَلَیْسَ الْخُلْعُ بِطَلاَقٍ یَنْکِحُہَا۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ وَلَیْثُ بْنُ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاہُ مُخْتَصَرًا۔
وَرَوَی الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کُلُّ شَیْئٍ أَجَازَہُ الْمَالُ فَلَیْسَ بِطِلاَقٍ۔ [صحیح]
(١٤٨٦٣) ابراہیم بن سعد نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا جس کو خاوند نے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر عورت نے خاوند سے خلع کرلیا تو خاوند اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے ؟ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ پہلی آیت میں اللہ نے طلاق کا ذکر کیا اور اس کے آخر میں اور درمیان میں خلع کا تذکرہ ہے تو خلع طلاق نہیں ہے، وہ نکاح کرسکتا ہے۔
(ب) حضرت عمرو عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں : ہر وہ چیز جو مال کے ذریعہ حلال ہو وہ طلاق نہیں ہے۔