(۱۴۹۰۰) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِی خَالِدٍ الدَّالاَنِیِّ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ الأَوْدِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : لِمَ یَقُولُ أَحَدُکُمْ لاِمْرَأَتِہِ قَدْ طَلَّقْتُکِ قَدْ رَاجَعْتُکِ لَیْسَ ہَذَا بِطَلاَقِ الْمُسْلِمِینَ طَلِّقُوا الْمَرْأَۃَ فِی قُبُلِ طُہْرِہَا۔ [صحیح]
(١٤٩٠٠) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی سے یہ کیوں کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی اور میں نے تم سے رجوع کرلیا۔ یہ مسلمانوں کے طلاق دینے کا طریقہ نہیں ہے تم عورتوں کو طہر سے پہلے طلاق دو ۔