(۱۴۹۰۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فَذَکَرَ ذَلِکَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَغَیَّظَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لِیُرَاجِعْہَا ثُمَّ لِیُمْسِکْہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ تَحِیضَ ثُمَّ تَطْہُرَ فَإِنْ بَدَا لَہُ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَلْیُطَلِّقْہَا طَاہِرًا قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ کَمَا أَمَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٩٠٩) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غصہ کیا اور فرمایا : رجوع کریں اور طہر تک روکے رکھیں، پھر دوسرے حیض کے بعد طہر کا انتظار کریں، اگر ان کا ارادہ طلاق دینے کا ہو تو مجامعت سے پہلے اس طہر میں طلاق دے دیں۔ یہ وہ مدت ہے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔