(۱۴۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَحَدِیثُ أَبِی الزُّبَیْرِ شَبِیہٌ بِہِ یَعْنِی بِمَا رَوَی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الأَمْرِ بِالرَّجْعَۃِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَنَافِعٌ أَثْبَتُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَبِی الزُّبَیْرِ وَالأَثْبَتُ مِنَ الْحَدِیثَیْنِ أَوْلَی أَنْ یُقَالَ بِہِ إِذَا خَالَفَہُ قَالَ وَقَدْ وَافَقَ نَافِعٌ غَیْرَہُ مِنْ أَہْلِ الثَّبَتِ فِی الْحَدِیثِ فَقِیلَ لَہُ : أَحُسِبَتْ تَطْلِیقَۃُ ابْنِ عُمَرَ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ -ﷺ- تَطْلِیقَۃً قَالَ فَمَہْ وَإِنْ عَجَزَ یَعْنِی أَنَّہَا حُسِبَتْ وَالْقُرْآنُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہَا تُحْسَبُ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ} لَمْ یُخَصِّصْ طَلاَقًا دُونَ طَلاَقٍ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ إِلَی أَنْ قَالَ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ لَمْ تُحْسَبْ شَیْئًا صَوَابًا غَیْرَ خَطَإٍ کَمَا یُقَالُ لِلرَّجُلِ أَخْطَأَ فِی فِعْلِہِ وَأَخْطَأَ فِی جَوَابٍ أَجَابَ بِہِ لَمْ یَصْنَعْ شَیْئًا یَعْنِی لَمْ یَصْنَعْ شَیْئًا صَوَابًا۔ [صحیح]
(١٤٩٣٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رجوع کے حکم کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔
امام شافعی (رح) سے کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں جو اپنی بیوی کو طلاق دی اسے ایک شمار کیا تھا ؟ فرمایا : رکیے، ہاں اسے ایک شمار کیا گیا اور قرآن کی آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ } [البقرۃ ٢٢٩]