(۱۴۹۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ أَلْفًا قَالَ : أَمَّا ثَلاَثٌ فَتُحَرِّمُ عَلَیْکَ امْرَأَتَکَ وَبَقِیَّتُہُنَّ عَلَیْکَ وِزْرٌ اتَّخَذَتَ آیَاتِ اللَّہِ ہُزُوًا۔
فَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ جَعَلَ الْوِزْرَ فِیمَا فَوْقَ الثَّلاَثِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنِ الزَّنْجِیِّ عَنِ ابْنِ جُرَیْحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی مِائَۃٍ قَالَ : وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آیَاتِ اللَّہِ ہُزُوًا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ فَعَابَ عَلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ کُلَّ مَا زَادَ مِنْ عَدَدِ الطَّلاَقِ الَّذِی لَمْ یَجْعَلِ اللَّہُ إِلَیْہِ وَلَمْ یَعِبْ عَلَیْہِ مَا جَعَلَ اللَّہُ إِلَیْہِ مِنَ الثَّلاَثِ۔ [صحیح]
(١٤٩٤٥) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، فرمانے لگے : تین طلاقوں نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کردیا اور باقی تیرے ذمے گناہ ہے جو تو نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے تو یہ حدیث تین سے زیادہ طلاقیں دینے کے گناہ پر دلالت کرتی ہے۔
(ب) ٭حضرت عطاء ابن عباس (رض) سے ١٠٠ سو طلاقوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ٩٧ ستانوے میں تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے تین سے زیادہ طلاقیں دینے پر عیب لگایا ہے۔