(۱۴۹۴۷) وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : طَلاَقُ السُّنَّۃِ أَنْ یُطَلِّقَہَا فِی کُلِّ طُہْرٍ تَطْلِیقَۃً فَإِذَا کَانَ آخِرُ ذَلِکَ فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ بِہَا۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِیلَ الْمَحَامِلِیِّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ : سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ فَذَکَرَہُ۔ وَنَحْنُ ہَکَذَا نَسْتَحِبُّ أَنْ یَفْعَلَ۔
وَقَدْ رُوِّینَا أَیْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ جَعَلَ الْعُدْوَانَ فِی الزِّیَادَۃِ عَلَی الثَّلاَثِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَہُوَ فِیمَا رَوَاہُ یُوسُفُ الْقَاضِی عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ مِائَۃً قَالَ : بَانَتْ بِثَلاَثٍ وَسَائِرُ ذَلِکَ عُدْوَانٌ۔ [صحیح]
(١٤٩٤٧) ابواحوص حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ہر طہر میں طلاق دی جائے۔ جب یہ آخری ہوں تو یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔
(ب) حفص بن غیاث اعمش سے ذکر کرتے ہیں کہ اس طرح طلاق دینا ہم مستحب سمجھتے ہیں۔
(ج) مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ سے سوال کیا کہ کسی آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں۔ کہنے لگے کہ تین کی وجہ سے وہ جدا ہوگئیں۔ باقی ساری نافرمانی کا ذریعہ ہیں۔