(۱۴۹۶۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ قَالَ حَدَّثَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ قَالَ : أَتَی رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ إِنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَہُ الْبَارِحَۃَ مِائَۃً قَالَ قُلْتَہَا مَرَّۃً وَاحِدَۃً؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ تُرِیدُ أَنْ تَبِینَ مِنْکَ امْرَأَتُکَ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : ہُوَ کَمَا قُلْتَ قَالَ وَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ الْبَارِحَۃَ عَدَدَ النُّجُومِ قَالَ قُلْتَہَا مَرَّۃً وَاحِدَۃً؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : تُرِیدُ أَنْ تَبِینَ امْرَأَتُکَ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : ہُوَ کَمَا قُلْتَ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَکَرَ مِنْ نِسَائِ أَہْلِ الأَرْضِ کَلِمَۃً لاَ أَحْفَظُہَا قَالَ : قَدْ بَیَّنَ اللَّہُ أَمْرَ الطَّلاَقِ فَمَنْ طَلَّقَ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ فَقَدْ تَبَیَّنَ لَہُ وَمَنْ لُبِسَ عَلَیْہِ جَعَلْنَا بِہِ لَبْسَہُ وَاللَّہِ لاَ تَلْبِسُونَ عَلَی أَنْفُسِکُمْ وَنَتَحَمَّلُہُ عَنْکُمْ ہُوَ کَمَا تَقُولُونَ۔ [صحیح]
(١٤٩٦٢) علقمہ بن قیس فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن مسعود (رض) کے پاس آیا، اس نے کہا کہ ایک آدمی نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں، اس نے کہا کہ آپ نے ایک ہی مرتبہ کہا تھا، ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں،: آپ کا یہ ارادہ تھا کہ آپ کی بیوی جدا ہوجائے۔ اس نے کہا : ہاں ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہہ دیا۔ راوی کہتے ہیں : ایک دوسرا شخص آیا اس نے کہا کہ ایک مرد نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دے دی ہیں۔ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنی بیوی کو ایک ہی مرتبہ یہ بات کہی ہے۔ اس نے کہا : ہاں ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تو نے اپنی بیوی کو الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس نے کہا : ہاں ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہا۔ محمد کہتے ہیں کہ اس نے زمین والی عورتوں کے متعلق ایک بات کہی، میں اس کو یاد نہ رکھ سکا۔ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے طلاق کا معاملہ واضح کیا جس نے طلاق دی ویسے جیسا کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے تو اس کے لیے واضح ہے اور جس انسان پر معاملہ خلط ملط ہوگیا تو ہم نے بھی اس پر اسی طرح کیا۔ اللہ کی قسم ! تم اپنے اوپر معاملے کو الجھاؤ نہیں اور ہم تم سے برداشت کرتے ہیں جیسا کہ تم کہتے ہو۔