(۱۴۹۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی قَیْسٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ الْخَثْعَمِیَّۃُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا قُتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَتْ : لِتَہْنِئْکَ الْخِلاَفَۃُ قَالَ : بِقَتْلِ عَلِیٍّ تُظْہِرِینَ الشَّمَاتَۃَ اذْہَبِی فَأَنْتِ طَالِقٌ یَعْنِی ثَلاَثًا قَالَ : فَتَلَفَّعَتْ بِثِیَابِہَا وَقَعَدَتْ حَتَّی قَضَتْ عِدَّتَہَا فَبَعَثَ إِلَیْہَا بِبَقِیَّۃٍ بَقِیَتْ لَہَا مِنْ صَدَاقِہَا وَعَشَرَۃِ آلاَفٍ صَدَقَۃً فَلَمَّا جَائَ ہَا الرَّسُولُ قَالَتْ : مَتَاعٌ قَلِیلٌ مِنْ حَبِیبٍ مَفَارِقٍ فَلَمَّا بَلَغَہُ قَوْلُہَا بَکَی ثُمَّ قَالَ : لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ جَدِّی أَوْ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ سَمِعَ جَدِّی یَقُولُ : أَیُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا عِنْدَ الأَقْرَائِ أَوْ ثَلاَثًا مُبْہَمَۃً لَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ ۔ لَرَاجَعْتُہَا۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَمِرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ۔ [ضعیف]
(١٤٩٧١) سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ (رض) حضرت حسن بن علی (رض) کے نکاح میں تھی۔ جب حضرت علی شہید کردیے گئے تو کہنے لگیں : حضرت حسن بن علی (رض) سے کہ آپ کو خلافت مبارک ہو تو حضرت حسن کہتے ہیں : حضرت علی (رض) کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتی ہو ! جاؤ تجھے تین طلاقیں۔ اس نے اپنے کپڑے لپیٹے اور بیٹھ گئی۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی عدت پوری کی تو حضرت حسن نے اس کی جانب باقی ماندہ حق مہر بھیجا اور دس ہزار اضافی دیا۔ جب قاصد آیا تو عائشہ (رض) کہتی ہیں : یہ قلیل مال ہے جدا ہونے والے محبوب کے مقابلہ میں۔ جب عائشہ (رض) کی بات حضرت حسن کو پہنچی تو رو پڑے، پھر فرمانے لگے : اگر میں نے اپنے نانا سے یا میرے باپ نے مجھے بیان نہ کیا ہوتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنی عورت کو حیض کے موقع پر تین طلاقیں دیں یا پوشیدہ انداز سے تین طلاقیں دیں تو یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے تو البتہ میں اس سے رجوع کرلوں گا۔