(۱۴۹۷۵) فَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ} إِلَی قَوْلِہِ {وَبُعُولَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ} الآیَۃَ وَذَلِکَ : أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَہُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِہَا وَإِنْ طَلَّقَہَا ثَلاَثًا فَنُسِخَ ذَلِکَ فَقَالَ {الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ} الآیَۃَ۔[ضعیف]
(١٤٩٧٥) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرمات یہیں کہ { وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓئٍ } [البقرۃ ٢٢٨] ” مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روک رکھیں۔ “ الی قولہ { وَ بُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ } ” اور ان کے خاوند ان کو واپس کرنے کے زیادہ حق دار ہیں۔ “ فرماتے ہیں کہ جب مرد بیوی کو طلاق دے تو رجوع کا بھی حق رکھتا ہے۔ اگر تین طلاقیں دے دے تو یہ حق بھی ختم۔ فرمایا : { اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ } [البقرۃ ٢٢٩]