(۱۴۹۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ رُفِعَ إِلَیْہِ رَجُلٌ قَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : شَبِّہْنِی فَقَالَ : کَأَنَّکِ ظَبْیَۃٌ کَأَنَّکِ حَمَامَۃٌ قَالَتْ : لاَ أَرْضَی حَتَّی تَقُولَ خَلِیَّۃٌ طَالِقٌ فَقَالَ ذَلِکَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : خُذْ بِیَدِہَا فَہِیَ امْرَأَتُکَ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَاہُ ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْحَکَمِ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شِہَابٍ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ عُمَرَ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : قَوْلُہُ خَلِیَّۃٌ طَالِقٌ أَرَادَ النَّاقَۃَ تَکُونُ مَعْقُولَۃً ثُمَّ تُطْلَقُ مِنْ عِقَالِہَا وَیُخَلَّی عَنْہَا فَہِیَ خَلِیَّۃٌ مِنَ الْعِقَالِ وَہِیَ طَالِقٌ لأَنَّہَا قَدْ طَلَقَتْ مِنْہُ فَأَرَادَ الرَّجُلُ ذَلِکَ فَأَسْقَطَ عُمَرُ عَنْہُ الطَّلاَقَ لِنِیَّتِہِ وَہَذَا أَصْلٌ لِکُلِّ مَنْ تَکَلَّمَ بِشَیْئٍ یُشْبِہُ لَفْظَ الطَّلاَقِ وَہُوَ یَنْوِی غَیْرَہُ أَنَّ الْقَوْلَ قَوْلُہُ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللَّہِ تَعَالَی وَفِی الْحُکْمِ عَلَی تَأْوِیلِ مَذْہَبِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ
قَالَ الشَّیْخُ : الأَمْرُ عَلَی مَا فَسَّرَ فِی قَوْلِہِ خَلِیَّۃٌ فَأَمَّا قَوْلُہُ طَالِقٌ فَہُوَ نَفْسُ الطَّلاَقِ فَلاَ یُقْبَلُ قَوْلُہُ فِیہِ فِی الْحُکْمِ لَکِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحْتَمَلُ أَنَّہُ إِنَّمَا أَسْقَطَہُ عَنْہُ لأَنَّہُ کَانَ قَالَ : خَلِیَّۃٌ طَالِقٌ لَمْ یُرْسِلِ الطَّلاَقَ نَحْوَہَا وَلَمْ یُخَاطِبْہَا بِہِ فَلَمْ یَقَعْ بِہِ عَلَیْہَا الطَّلاَقُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
(١٤٩٩٧) ابوعبید حضرت عمر (رض) کی حدیث میں فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی لایا گیا، جس کو اس کی عورت نے یہ کہا تھا : مجھے تشبیہ دو ۔ اس نے کہا : تو ہرن جیسی ہے گویا کہ تو کبوتری ہے۔ عورت نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تو کہے (خَلِیّۃُ طَالِقٌ) (یہ لفظ طلاق سے کنایہ ہے اگر طلاق کا ارادہ ہو تو طلاق واقع ہوجائے گی وگرنہ نہیں) اس شخص نے یہ لفظ کہہ دیے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کا ہاتھ پکڑو یہ تیری بیوی ہے۔
(خَلِیّۃُ طَالِقٌ) ابوعبید کہتے ہیں اس سے مراد اونٹنی ہے جس کو باندھا گیا تھا، پھر اس کو کھول دیا گیا اس وقت بولتے ہیں، خلیۃ من العقال کہ یہ چھوڑی ہوئی ہے تو مرد نے یہ ارادہ کیا تھا تو حضرت عمر (رض) نے طلاق والی نیت کا خاتمہ کردیا اور جو شخص ایسا لفظ بولے جو لفظ طلاق کے مشابہہ ہو لیکن نیت طلاق کی نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : اس شخص نے اپنی عورت کو نہ تو طلاق بھیجی اور نہ ہی ان الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا کہ اس پر طلاق واقع ہو تو اس احتمال کی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے طلاق کو ساقط کردیا۔