(۱۵۰۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ : أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّہُ کُتِبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنَ الْعِرَاقِ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی عَامِلِہِ : أَنْ مُرْہُ أَنْ یَوُافِیَنِی فِی الْمَوْسِمِ فَبَیْنَمَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ إِذْ لَقِیَہُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِی أَمَرْتَ أَنْ یُجْلَبَ عَلَیْکَ فَقَالَ : أَنْشُدُکَ بِرَبِّ ہَذِہِ الْبَنِیَّۃِ ہَلْ أَرَدْتَ بِقَوْلِکَ حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ الطَّلاَقَ فَقَالَ الرَّجُلُ : لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِی فِی غَیْرِ ہَذَا الْمَکَانِ مَا صَدَقْتُکَ أَرَدْتُ الْفِرَاقَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہُوَ مَا أَرَدْتَ۔ [حسن لغیرہ]
(١٥٠١٠) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو عراق سے ایک خط لکھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے یہ الفاظ کہے ہیں : حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ تو حضرت عمر (رض) نے اپنے عامل کو لکھا کہ اسے حکم دیں کہ وہ حج کے موقع پر مجھ سے ملاقات نہ کرے تو اس نے حضرت عمر (رض) سے طواف کرتے وقت ملاقات کی اور سلام کہا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں وہ ہوں جس کو آپ نے حاضر ہونے کا کہا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تجھے اس عمارت کے رب کی قسم ! تیرا اس قول سے کیا ارادہ تھا : حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ طلاق کا قصد تھا ؟ تو اس شخص نے کہا : اگر اس جگہ کے علاوہ آپ میرے اوپر قسم ڈالتے تو میں آپ کو سچ نہ بتاتا۔ میں نے فراق ہی کا ارادہ کیا ہے تو حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : ویسے ہی ہے جیسے تو نے ارادہ کیا ہے۔