(۱۵۰۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : مَا أُبَالِی خَیَّرْتُ امْرَأَتِی وَاحِدَۃً أَوْ مِائَۃً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِی وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : خَیَّرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَفَکَانَ طَلاَقًا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٥٠٢٣) مسروق کہتے ہیں کہ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اپنی ایک یا سو یا ہزار بیوی کو اختیار دوں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اختیار دیا ہے۔ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا تو فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اختیار دیا کیا، یہ طلاق تھا۔