(۱۵۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ : إِنِّی جَعَلْتُ امْرَأَتِی عَلَیَّ حَرَامًا قَالَ : لَیْسَتْ عَلَیْکَ بِحَرَامٍ قَالَ : أَرَأَیْتَ قَوْلَ اللَّہِ تَعَالَی {کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلاًّ لِبَنِی إِسْرَائِیلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِہِ} فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ إِسْرَائِیلَ کَانَتْ بِہِ النَّسَا فَجَعَلَ عَلَی نَفْسِہِ إِنْ شَفَاہُ اللَّہُ أَنْ لاَ یَأْکُلُ الْعُرُوقَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلَیْسَتْ بِحَرَامٍ۔ [صحیح]
(١٥٠٥٩) یوسف بن مالک فرماتے ہیں ہیں کہ ایک دیہاتی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے، فرماتے ہیں : وہ تیرے اوپر حرام نہیں ہے کیا آپ نے اللہ کا قول نہیں پڑھا۔ { کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآئِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ } [اٰل عمران ٩٣] ” اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانے حلال کر رکھے تھے مگر جو بنو اسرائیل نے اپنے اوپر خود حرام کرلیے۔ “
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اسرائیل میں ایک بیماری تھی، کہنے لگے : اگر اللہ نے انھیں شفاء دے دی تو وہ ہر قسم کا عرق اپنے اوپر حرام کرلیں گے حالانکہ وہ حرام نہ تھا۔