(۱۵۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً وَعُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- آلَی وَحَرَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ} قَالَ : فَالْحَرَامُ حَلاَلٌ وَقَالَ فِی الآیَۃِ {قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ أَیْمَانِکُمْ} ہَذَا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف]
(١٥٠٧٠) عامر مسروق سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایلا کیا اور اپنے اوپر ماریہ کو حرام قرار دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { یاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } [التحریم ١] ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے اللہ کی حلال کردہ اشیاء اپنے لیے حرام کیوں کیں۔ “ فرماتے ہیں کہ حرام حلال ہے اور آیت میں ہے : { قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ } [التحریم ٢] ” اللہ نے تمہارے لیے قسموں کا توڑنا ضروری کردیا ہے۔ “