hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15090

.

سنن البيهقي

15090
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۰۸۴) یَعْنِی کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّ بُکَیْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ أَخْبَرَہُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَجَائَ ہُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ فَقَالَ : إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا فَمَاذَا تَرَیَانِ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ : إِنَّ ہَذَا أَمْرٌ مَا لَنَا فِیہِ قَوْلٌ اذْہَبْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَإِلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَإِنِّی قَدْ تَرَکْتُہُمَا عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَسَلْہُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا۔فَذَہَبَ فَسَأَلَہُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَفْتِہِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَقَدْ جَائَ تْکَ مُعْضِلَۃٌ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : الْوَاحِدَۃُ تُبِینُہَا وَالثَّلاَثُ تُحَرِّمُہَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۲۰۶]
(١٥٠٨٤) معاویہ بن ابی عیاش انصاری فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن زبیر اور عاصم بن عمر کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں کے پاس محمد بن ایاس بن بکیر آئے، انھوں نے کہا کہ ایک دیہاتی شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تم دونوں کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ابن زبیر (رض) فرماتے ہیں : اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے۔ آپ عبداللہ بن عباس (رض) اور ابوہریرہ (رض) کے پاس جائیں جن کو میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس چھوڑ کے آیا ہوں، ان سے سوال کرنے کے بعد ہمیں بھی خبر دینا تو محمد بن ایاس بن بکیر نے ان سے جا کر پوچھا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے ابوہریرہ (رض) سے کہا : انھیں فتویٰ دو ، آپ کے پاس مشکل مسئلہ آیا ہے۔ ابوہریرہ (رض) فرمانے لگے کہ ایک طلاق بیوی کو جدا کردیتی ہے اور تین طلاقیں حرام کردیتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے بھی اسی طرح فرمایا، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے۔