hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15111

.

سنن البيهقي

15111
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۰۵) وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الزُّبَیْرِ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَابِتٍ الأَحْنَفِ : أَنَّہُ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَدَعَانِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَجِئْتُہُ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ وَإِذَا بَیْنَ یَدَیْہِ سِیَاطٌ مَوْضُوعَۃٌ وَإِذَا قَیْدٌ مِنْ حَدِیدٍ وَعَبْدَانِ لَہُ قَدْ أَجْلَسَہُمَا فَقَالَ : طَلِّقْہَا وَإِلاَّ وَالَّذِی یُحْلَفُ بِہِ فَعَلْتُ بِکَ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَقُلْتُ : ہِیَ الطَّلاَقُ أَلْفًا فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَأَدْرَکْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی طَرِیقِ مَکَّۃَ فِی خَرِبٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِی فَتَغَیَّظَ عَبْدُ اللَّہِ وَقَالَ : لَیْسَ ذَلِکَ بِطَلاَقٍ إِنَّہَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَیْکَ فَارْجِعْ إِلَی أَہْلِکَ قَالَ فَلَمْ تَقَرَّنِی نَفْسِی حَتَّی أَتَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ بِمَکَّۃَ فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِی وَبِالَّذِی قَالَ لِیَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : لَمْ تَحْرُمْ عَلَیْکَ ارْجِعْ إِلَی أَہْلِکَ وَکَتَبَ إِلَی جَابِرِ بْنِ الأَسْوَدِ الزُّہْرِیِّ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ یَوْمَئِذٍ یَأْمُرُہُ أَنْ یُعَاقِبَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَنْ یُخَلِّیَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَہْلِی فَقَدِمْتُ فَجَہَّزَتْ صَفِیَّۃُ بِنْتُ أَبِی عُبَیْدٍ امْرَأَۃُ ابْنِ عُمَرَ امْرَأَتِی حَتَّی أَدْخَلَتْہَا عَلَیَّ بِعِلْمِ ابْنِ عُمَرَ ثُمَّ دَعَوْتُ ابْنَ عُمَرَ یَوْمَ عُرْسِی لِوَلِیمَتِی فَجَائَ نِی۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
(١٥١٠٥) امام مالک ثابت احنف سے نقل فرماتے ہیں اس نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے شادی کرلی۔ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن نے مجھے بلایا جب میں ان کے پاس آیا تو ان کے سامنے کوڑے رکھے ہوئے تھے اور لوہے کی زنجیر تھی اور دو غلام اس نے بٹھا رکھے تھے۔ کہنے لگے : اس کو طلاق دو وگرنہ۔۔۔ اس نے قسم اٹھا کے کہا : میں تیرے ساتھ یہ یہ کروں گا، کہتے ہیں : میں نے کہا : ہزار طلاقیں۔ میں اس کے پاس سے نکلا تو میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو مکہ کے راستے میں پایا۔ میں نے ان کو اپنی حالت بتائی تو حضرت عبداللہ (رض) غصے ہوئے اور فرمانے لگے : یہ کوئی طلاق نہیں ہے، تیری بیوی تیرے لیے حرام نہیں ہوئی تو اپنے اہل کے پاس جا۔ کہتے ہیں : میرا دلی اطمینان نہ ہوا یہاں تک کہ میں عبداللہ بن زبیر (رض) کے پاس آیا، وہ اس دن مکہ میں تھے۔ میں نے ان کو اپنی حالت بتائی تو انھوں نے بھی عبداللہ بن عمر (رض) کی طرح کہا تو عبداللہ بن زبیر نے مجھے فرمایا : وہ تیرے اوپر حرام نہیں تو اپنی بیوی کے پاس جا اور جابر بن اسود زہری کو دیکھا جو مدینہ کے امیر تھے کہ وہ عبداللہ بن عبدالرحمن کو سزا دے اور یہ کہ وہ میرے اور میری گھر والی کے درمیان رکاوٹ نہ بنے۔ میں آیا تو صفیہ بنت ابی عبید یعنی ابن عمر (رض) کی بیوی نے میری عورت کو تیار کیا اور ابن عمر (رض) کے جانتے ہوئے اس کو میرے اوپر داخل کردیا۔ پھر میں نے اپنے ولیمے کی دعوت میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو بھی بلایا۔