(۱۵۱۲۰) وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ ضَعِیفٌ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللَّہُ شَیْئًا عَلَی وَجْہِ الأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَیْہِ مِنَ الطَّلاَقِ وَمَا خَلَقَ اللَّہُ شَیْئًا عَلَی وَجْہِ الأَرْضِ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنَ الْعَتَاقِ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوکِہِ : أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَائَ اللَّہُ فَہُوَ حُرٌّ وَلاَ اسْتِثْنَائَ لَہُ وَإِذَا قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَائَ اللَّہُ فَلَہُ الاِسْتِثْنَائُ وَلاَ طَلاَقَ عَلَیْہِ ۔ [ضعیف]
(١٥١٢٠) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے معاذ ! جو بھی اللہ تعالیٰ نے روح زمین پر پیدا فرمایا ہے ان میں سب سے زیادہ مبغوض ترین چیز اللہ کے ہاں طلاق ہے اور جو چیز اللہ نے روح زمین پر پیدا فرمائی ہے ان میں سب سے زیادہ محبوب ترین چیز اللہ تعالیٰ کو آزادی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے غلام سے کہتا ہے : تو آزاد ہے ان شاء اللہ تو وہ آزاد ہوجاتا ہے استثناء کا کچھ فائدہ نہیں ہے اور جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے انت طالق ان شاء اللہ تو طلاق واقع نہ ہوگی استثناء کے موجود ہونے کی وجہ سے۔