(۱۵۱۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ قَالَ قَالَ الرَّبِیعُ : قَدِ اسْتَخَارَ اللَّہَ فِیہِ یَعْنِی الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَقَالَ : لاَ تَرِثُ الْمَبْتُوتَۃُ۔
قَالَ الرَّبِیعُ : وَہُوَ قَوْلُ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ طَلَّقَہَا عَلَی أَنَّہَا لاَ تَرِثُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ عِنْدَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٥١٣٢) ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے اللہ سے استخارہ کیا تو فرماتے ہیں کہ ایک رات گزار کر جانے والی وارث نہ ہوگی۔
(ب) ابن زبیر (رض) کا قول ہے کہ عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اپنی بیوی کو طلاق دی کہ وہ ان شاء اللہ اس کی وارث نہ ہوگی۔
(٣٩) باب الشَّکِّ فِی الطَّلاَقِ وَمَنْ قَالَ لاَ تَحْرُمُ إِلاَّ بِیَقِینِ تَحْرِیمٍ
طلاق میں شک کا بیان اور جو کہتا ہے کہ عورت صرف یقین کی بنا پر حرام ہوتی ہے