(۱۵۱۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی الرَّجُلِ یُطَلِّقُ تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ یَتَزَوَّجُہَا رَجُلٌ آخَرَ فَیُطَلِّقُہَا أَوْ یَمُوتُ عَنْہَا فَیَتَزَوَّجُہَا زَوْجُہَا الأَوَّلُ قَالَ: فَتَکُونُ عَلَی طَلاَقٍ جَدِیدٍ ثَلاَثٍ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
(١٥١٤٢) طاؤس حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو بیوی کو دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر اس عورت سے کوئی شخص شادی کرلیتا ہے، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے یا فوت ہوجاتا ہے، پھر اس عورت سے اس کا پہلا خاوند شادی کرلیتا ہے تو اب اس کو تین طلاق دینے کا اختیار ہوگا۔