(۱۵۲۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ اثْنَیْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الرَّجُلِ یُؤْلِی قَالُوا : لَیْسَ عَلَیْہِ شَیْء ٌ حَتَّی تَمْضِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَیُوقَفَ فَإِنْ فَائَ وَإِلاَّ طَلَّقَ۔ [حسن]
(١٥٢٠٩) سہیل بن ابی صالح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ١٢ صحابہ کرام (رض) سے ایلا کرنے والے شخص کے بارے میں پوچھا : تو انھوں نے فرمایا : اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، لیکن جب چار ماہ گزر جائیں تو ایلا کرنے والے کو کھڑا کیا جائے گا، اگر رجوع کرے تو درست وگرنہ طلاق دے۔