(۱۵۲۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرُوَیْہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ أَبُو قُدَامَۃَ حَدَّثَنِی عَامِرٌ الأَحْوَلُ حَدَّثَنِی عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ إِیلاَئُ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ السَّنَۃَ وَالسَّنَتَیْنِ وَأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَوَقَّتَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ فَإِنْ کَانَ إِیلاَؤُہُ۔ وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ : فَمَنْ کَانَ إِیلاَؤُہُ أَقُلَّ مِنْ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ ۔
قَالَ وَقَالَ عَطَاء ٌ وَإِنْ آلَی مِنْہَا وَہِیَ فِی بَیْتِ أَہْلِہَا قَبْلَ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا فَلَیْسَ بِإِیلاَئٍ ۔ [ضعیف]
(١٥٢٣٧) عطاء حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں ایلا ایک یا دو سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتا تھا، لیکن اللہ رب العزت نے اس کا وقت چار ماہ مقرر فرما دیا، اگر کوئی ایلا کرنا چاہتا ہے۔ یونس کی روایت میں ہے جو کوئی چار ماہ سے کم ایلا کرنا چاہتا ہے تو یہ ایلا نہ ہوگا۔
عطاء کہتے ہیں : اگر خاوند نے ایلا کیا اور بیوی ابھی اپنے والدین کے گھر تھی رخصتی بھی نہ ہوئی تو یہ ایلا نہ ہوگا۔