(۱۵۲۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : کَانَتْ أُمِّی تُرْضِعُ صَبِیًّا وَقَدْ تُوُفِّیَ صَبِیٌّ لَنَا فَحَلَفَ أَبِی أَنْ لاَ یَقْرَبَہَا حَتَّی تَفْطِمَ الصَّبِیَّ فَلَمَّا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ قِیلَ لَہُ : إِنَّہُ قَدْ بَانَتْ مِنْکَ فَأَتَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنْ کُنْتَ حَلَفْتَ عَلَی تَضِرَّۃٍ فَہِیَ امْرَأَتُکَ وَإِلاَّ فَقَدْ بَانَتْ مِنْکَ۔ کَذَا قَالَ شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ۔
وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ : وَمَنْ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ فَیَنْبَغِی أَنْ یَقُولَ وَکَذَلِکَ إِنْ کَانَتْ بِہَا عِلَّۃٌ یَضُرُّہَا الْجِمَاعُ بِہَا أَوْ بَدَأَ الیَمِینَ وَلَیْسَ ہَیْئَتَہَا الضِّرَارُ فَلَیْسَتْ بِإِیلاَئٍ وَلِہَذَا الْقَوْلِ وَجْہٌ حَسَنٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ
وَقَالَ غَیْرُہُ ہُوَ مُؤْلِی وَکُلُّ یَمِینٍ مَنَعَتِ الْجِمَاعَ فَہِیَ إِیلاَء ٌ وَعَلَی ہَذَا الْقَوْلِ نَصَّ فِی الْجَدِیدِ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَنْزَلَ الإِیلاَئَ مُطْلَقًا لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ غَضَبًا وَلاَ رِضًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٥٢٤١) سماک حضرت عطیہ بن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ میری والدہ ایک بچے کو دودھ پلائی تھی اور ہمارا بچہ فوت ہوگیا۔ میرے والد نے قسم کھائی کہ جب تک بچے کا دودھ نہ چھڑوا لے گی، وہ اس کے قریب نہ جائے گا۔ جب چار ماہ گزر گئے تو اس سے کہا گیا : وہ تجھ سے جدا ہوگئی تو اس نے حضرت علی (رض) کو بتایا۔ انھوں نے فرمایا : اگر تو نے قسم اس کے نقصان پر اٹھائی تھی تو یہ تیری بیوی ہے وگرنہ وہ تجھ سے جدا ہوگئی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر اس کی علت جماع یا نقصان کی حالت میں اس نے قسم اٹھائی تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
دوسرے کہتے ہیں : ہر وہ قسم جو جماع سے روکے وہ ایلا ہے کیونکہ اللہ کی نازل کردہ آیت میں غصے یا رضا کا دخل نہیں ہے۔