hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15251

.

سنن البيهقي

15251
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۲۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ الثُّمَالِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لاِمْرَأَتِہِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ : أَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی حَرُمَتْ عَلَیْہِ فِی الإِسْلاَمِ قَالَ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ ظَاہَرَ فِی الإِسْلاَمِ أَوْسٌ وَکَانَتْ تَحْتَہُ ابْنَۃُ عَمٍّ لَہُ یُقَالُ لَہَا خُوَیْلَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ فَظَاہَرَ مِنْہَا فَأُسْقِطَ فِی یَدِہِ وَقَالَ : مَا أُرَاکِ إِلاَّ قَدْ حَرُمْتِ عَلَیَّ قَالَتْ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ قَالَ قَالَ : فَانْطَلِقِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَلِیہِ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَوَجَدَتْ عِنْدَہُ مَاشِطَۃً تَمْشُطُ رَأْسَہُ فَأَخْبَرَتْہُ فَقَالَ : یَا خُوَیْلَۃُ مَا أُمِرْنَا فِی أَمْرِکِ بِشَیْئٍ۔ فَأُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا خُوَیْلَۃُ أَبْشِرِی ۔ قَالَتْ : خَیْرًا قَالَ : خَیْرٌ ۔ فَقَرَأَ عَلَیْہَا قَوْلَہُ تَعَالَی {قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِی إِلَی اللَّہِ} الآیَاتِ۔ [ضعیف]
(١٥٢٤٥) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دور جاہلیت میں مرد اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ تو میرے اوپر ایسے ہی ہے جیسی میری والدہ تو اسلام میں یہ عورت مرد پر حرام ہوجاتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا ظہار اوس نے کیا، اس کے نکاح میں چچا کی بیٹی خویلہ بنت خویلد تھی۔ اوس نے ظہار کیا تو اس کے ہاتھ سے چیز بھی گرگئی اور اس نے کہا : میرے خیال میں تو میرے اوپر حرام ہوگئی ہے تو خولہ نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ راوی کہتے ہیں کہ اوس نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر سوال کرو، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی بیوی گنگھی کر رہی تھیں۔ اس نے آپ کو بتایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : اے خولہ ! آپ کے معاملہ میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خولہ ! خوش ہوجا، کہتی ہیں بھلائی یا بہتر ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خیر اور پھر آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت کی : { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } [المجادلہ ١]