(۱۵۲۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ: الَّذِی حَفِظْتُ مِمَّا سَمِعْتُ فِی { یَعُودُونَ لِمَا قَالُوا } أَنَّ الْمُظَاہِرَ حَرَّمَ امْرَأَتَہُ بِالظِّہَارِ فَإِذَا أَتَتْ عَلَیْہِ مُدَّۃٌ بَعْدَ الْقَوْلِ بِالظِّہَارِ لَمْ یُحَرِّمْہَا بِالطَّلاَقِ الَّذِی تَحْرُمُ بِہِ وَلاَ بِشَیْئٍ یَکُونُ لَہُ مَخْرَجٌ مِنْ أَنْ تَحْرُمَ بِہِ فَقَدْ وَجَبَتْ عَلَیْہِ کَفَّارَۃُ الظِّہَارِ کَأَنَّہُمْ یَذْہَبُونَ إِلَی أَنَّہُ إِذَا أَمْسَکَ مَا حَرَّمَ عَلَی نَفْسِہِ أَنَّہُ حَلاَلٌ فَقَدْ عَادَ لِمَا قَالَ مُخَالَفَۃً فَأَحَلَّ مَا حَرَّمَ قَالَ وَلاَ أَعْلَمُ لَہُ مَعْنًی أَوْلَی بِہِ مِنْ ہَذَا
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لاَ أَعْلَمُ مُخَالِفًا فِی أَنَّ عَلَیْہِ کَفَّارَۃَ الظِّہَارِ وَإِنْ لَمْ یَعُدْ بِتَظَاہُرٍ آخَرَ فَلَمْ یَجُزْ أَنْ یُقَالَ مَا لَمْ أَعْلَمْ مُخَالِفًا فِی أَنَّہُ لَیْسَ بِمَعْنَی الآیَۃِ۔
(١٥٢٥٥) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جو میں نے یاد رکھا : { یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا } [المجادلہ ٣] کہ ظہار کرنے والا اپنی بیوی کو ظہار کی بنا پر حرام کرلیتا ہے۔ ظہار کہنے کے بعد جب ایک عرصہ ہوگیا تو طلاق کی بدولت وہ (عورت) حرام نہیں ہوگی جیسے اس ظہار کے ساتھ ہوتی ہے اور نہ کوئی ایسی چیز جو اس کے لیے اس حرام سے نکلنے کا سبب ہو تو اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہے گویا کہ ان کا موقف ہے کہ جب اس چیز سے وہ رک گیا جو اس نے اپنے اوپر حرام کرلی حالانکہ وہ حلال ہے تو اگر اس نے وہی بات دوبارہ مخالفت کرتے ہوئے کی تو اس نے جو حرام ٹھہرایا تھا اس کو حلال کرلیا اور مجھے علم نہیں کون سا معنی اولیٰ ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : میرے علم میں نہیں کہ اس پر کفارہ ظہار کا کوئی مخالف ہو۔ اگر اس نے دوبارہ ظہار کیا تو یہ کہنا جائز نہیں کہ مجھے علم نہیں کہ اس کا کوئی مخالف ہے اس بات کے متعلق کہ یہی آیت کا معنی ہے۔