(۱۵۲۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَہْلٍ وَالْوَلِیدُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَّمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی خُوَیْلَۃُ بِنْتُ ثَعْلَبَۃَ وَکَانَتْ تَحْتَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَخِی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ فَکَلَّمَنِی بِشَیْئٍ وَہُوَ فِیہِ کَالضَّجِرِ فَرَادَدْتُہُ فَغَضِبَ وَقَالَ : أَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی ثُمَّ خَرَجَ إِلَی نَادِی قَوْمِہِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَرَاوَدَنِی عَلَی نَفْسِی فَأَبَیْتُ فَشَادَّنِی فَشَادَدْتُہُ فَغَلَبْتُہُ بِمَا تَغْلِبُ بِہِ الْمَرْأَۃُ الرَّجُلَ الضَّعِیفَ قَالَتْ فَقُلْتُ : وَالَّذِی نَفْسُ خُوَیْلَۃَ بِیَدِہِ لاَ تَصِلُ إِلَیَّ حَتَّی یَحْکُمَ اللَّہُ فِیَّ وَفِیکَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَشْکُو إِلَیْہِ مَا لَقِیتُ فَقَالَ : زَوْجُکِ وَابْنُ عَمِّکِ اتَّقِی اللَّہَ وَأَحْسِنِی صُحْبَتَہُ ۔ قَالَتْ فَمَا بَرِحْتُ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا} إِلَی الْکَفَّارَۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مُرِیہِ فَلْیُعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَتْ : وَاللَّہِ مَا عِنْدَہُ رَقَبَۃٌ یَمْلِکُہَا قَالَ : فَلْیَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ شَیْخٌ کَبِیرٌ مَا بِہِ مِنْ صِیَامٍ قَالَ : فَلْیُطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ فَقُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا عِنْدَہُ مَا یُطْعِمُ قَالَ : بَلَی سَنُعِینُہُ بِعَرَقٍ ۔ وَالْعَرَقُ الْمِکْتَلُ یَسَعُ فِیہِ ثَلاَثِینَ صَاعًا مِنَ التَّمْرِ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَنَا أُعِینُہُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ : قَدْ أَحْسَنْتِ مُرِیہِ فَلْیَتَصَدَّقْ ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن لغیرہ]
(١٥٢٧٤) یوسف بن عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ مجھے خویلہ بنت ثعلبہ جو اوس بن صامت کے نکاح میں تھی جو عبادہ بن صامت کے بھائی تھے، نے بیان کیا کہ اوس گھر آئے تو کچھ بات چیت ہوئی، جس کی وجہ سے وہ کبیدہ خاطر ہوئے۔ میں نے بھی جواب دیا تو اس نے غصہ میں کہہ دیا : تو میرے لیے میری ماں کی مانند ہے۔ پھر اپنی قوم کی مجلس میں گئے، جب واپس پلٹ کر آئے تو اس نے مجھے اپنے نفس کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تو میں نے انکار کردیا، اس نے میرے اوپر سختی کی تو میں نے بھی سخت مقابلہ کیا، میں جھگڑا میں اس پر غالب آئی، جیسے عورتیں کمزور آدمی پر غلبہ پا لیتی ہیں، فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! خویلہ کا نفس اس کے قابو میں ہے تو میرے قریب نہیں آسکتا جب تک میرے اور تیرے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ نہ فرما دیں، میں نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا خاوند تیرے چچا کا بیٹا ہے، اللہ سے ڈر اور اس سے اچھا سلوک کر۔ کہتی ہیں : میں گئی نہ تھی کہ اللہ نے یہ آیات نازل فرما دیں : { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا } (المجادلہ : ١) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کہو کہ گردن آزاد کرے، خولہ کہنے لگی : اللہ کی قسم ! وہ کسی گردن کا مالک ہی نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ بوڑھا آدمی ہے، روزوں کی طاقت کہا ں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کے پاس کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم اس کی ایک ٹوکرہ سے مدد کردیتے ہیں۔
عرق : اس ٹوکرہ کو کہتے ہیں جس میں ٣٠ ساع کھجور ہو۔ کہتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایک ٹوکرہ میں بھی اس کی مدد کردوں گی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اچھا کیا اس کو کہو کہ وہ صدقہ کرے۔