(۱۵۲۸۴) وَأَمَّا حَدِیثُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَایَۃُ فِیہِ فَرُوِیَ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ خُوَیْلَۃَ بِنْتِ مَالِکِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ قَالَتْ : ظَاہَرَ مِنِّی زَوْجِی أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَشْکُو إِلَیْہِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُجَادِلُنِی فِیہِ وَیَقُولُ : اتَّقِی اللَّہَ فَإِنَّہُ زَوْجُکِ وَابْنُ عَمِّکِ ۔ فَمَا بَرِحْتُ حَتَّی نَزَلَ الْقُرْآنُ { قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا} قَالَ : یَعْتِقُ رَقَبَۃً ۔ قَالَتْ : لاَ یَجِدُ۔ قَالَ : فَیَصُومُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ شَیْخٌ کَبِیرٌ مَا بِہِ مِنْ صِیَامٍ قَالَ : فَلْیُطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَتْ : مَا عِنْدَہُ مِنْ شَیْئٍ یَتَصَدَّقُ بِہِ قَالَ : فَإِنِّی سَأُعِینُہُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَإِنِّی أُعِینُہُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ : قَدْ أَحْسَنْتِ اذْہَبِی فَأَطْعِمِی بِہَا عَنْہُ سِتِّینَ مِسْکِینًا وَارْجِعِی إِلَی ابْنِ عَمِّکِ ۔ قَالَ وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا۔
[حسن لغیرہ۔ تقدم لغیرہ]
(١٥٢٨٤) خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کیا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ مجادلہ فرمایا اور فرمایا : وہ تیرا خاوند اور تیرے چچا کا بیٹا ہے، میں اسی کیفیت میں تھی کہ قرآن نازل ہوا : { قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا } [المجادلہ ١] ” اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی۔
فرمایا : وہ ایک غلام آزاد کرے، خویلہ نے کہا : اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، خویلہ نے کہا : وہ بوڑھا شخص ہے، روزوں کی ہمت نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے کہا : اس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایک کھجور کے ٹوکرہ سے اس کی مدد کردیتا ہوں۔ میں نے کہا : دوسرا ٹوکرہ میں ادا کر دوں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اچھا کیا، جاؤ اس سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور اپنے خاوند کے پاس واپس چلی جاؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ عرق ساٹھ صاع کا ٹوکرہ تھا۔