hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15293

.

سنن البيهقي

15293
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۲۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ الثُّمَالِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَذَکَرَ قِصَّۃَ ظِہَارِ أَوْسٍ إِلَی أَنْ قَالَ {فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ} قَالَتْ خُوَیْلَۃُ قُلْتُ : وَأَیُّ الرَّقَبَۃِ لَنَا وَاللَّہِ مَا یَخْدُمُہُ غَیْرِی قَالَ {فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ} قَالَتْ : وَاللَّہِ لَوْلاَ أَنَّہُ یَذْہَبُ یَشْرَبُ فِی الْیَوْمِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَذَہَبَ بَصَرُہُ قَالَ {فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْکِینًا} قَالَتْ : فَمِنْ أَیْنَ ہِیَ الأَکْلَۃُ إِلَی مِثْلِہَا فَدَعَا النَّبِیُّ -ﷺ- بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلاَثِینً صَاعًا وَالْوَسْقُ سِتُّونُ صَاعًا قَالَ : لِیُطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا وَلْیُرْجِعْکِ ۔ کَذَا رَوَاہُ أَبُو حَمْزَۃَ الثُّمَالِیُّ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ وَرَوَاہُ الْحَکَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ دُونَ ذِکْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیہِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ فَقَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِشَیْئٍ مِنْ تَمُرٍ یُقَالُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا وَیُقَالُ عِشْرُونَ صَاعًا فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : خُذْ ہَذَا فَاقْسِمْہُ ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَفْقَرُ مِنِّی فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : کُلْہُ أَنْتَ وَأَہْلُکَ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۱۵۲۴۵]
(١٥٢٨٧) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس سے اوس کے ظہار کا قصہ نقل فرماتے ہیں { فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ } [النساء ٩٢] تک۔ خویلہ نے کہا : میرے علاوہ اس کا خدمت گار کوئی نہیں، غلام موجود نہیں ہے۔ فرمایا : { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } [النساء ٩٢] ” جو غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ “ خویلہ کہتی ہے کہ دن میں وہ تین بار کھاتا پیتا ہے، نظر ختم ہوچکی ہے۔ فرمایا : { فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْکِیْنًا } [المجادلہ ٤] ” جو طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ “ خویلہ نے کہا : اس جیسے کے پاس اتنا کھانا کہاں ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصف وسق منگوایا اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، فرمایا : وہ ساٹھ مسکین کو کھلائے اور رجوع کرلے۔
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے عبداللہ بن عباس (رض) کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔ اس نے کہا : میرے پاس موجود نہیں۔ راوی کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً ١٥ صاع یا ٢٠ صاع تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لے کر تقسیم کر دو تو اس شخص نے کہا : پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔