(۱۵۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ کَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ لَمَّا قَذَفَ ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ امْرَأَتَہُ قِیلَ لَہُ : وَاللَّہِ لَیَحُدَّنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثَمَانِینَ جَلْدَۃً قَالَ : اللَّہُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِکَ أَنْ یَضْرِبَنِی ثَمَانِینَ ضَرْبَۃً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّی رَأَیْتُ حَتَّی اسْتَوْثَقْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّی اسْتَبَنْتُ لاَ وَاللَّہِ لاَ یَضْرِبُنِی أَبَدًا فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْمُلاَعَنَۃِ فَدَعَاہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ نَزَلَتِ الآیَۃُ فَقَالَ : اللَّہُ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ ۔ فَقَالَ ہِلاَلٌ : وَاللَّہِ إِنِّی لَصَادِقٌ فَقَالَ لَہُ : احْلِفْ بِاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنِّی لَصَادِقٌ تَقُولُ ذَلِکَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَإِنْ کُنْتُ کَاذِبًا فَعَلَیَّ لَعْنَۃُ اللَّہِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قِفُوہُ عِنْدَ الْخَامِسَۃِ فَإِنَّہَا مُوجِبَۃٌ ۔ فَحَلَفَ ثُمَّ قَالَتْ أَرْبَعًا : وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنَّہُ لَمِنَ الْکَاذِبِینَ فَإِنْ کَانَ صَادِقًا فَعَلَیْہَا غَضَبُ اللَّہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قِفُوہَا عِنْدَ الْخَامِسَۃِ فَإِنَّہَا مُوجِبَۃٌ۔ فَتَرَدَّدَتْ وَہَمَّتْ بِالاِعْتِرَافِ ثُمَّ قَالَتْ: لاَ أَفْضَحُ قَوْمِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنْ جَائَ تَ بِہِ أَکْحَلَ أَدْعَجَ سَابِغَ الأَلْیَتَیْنِ أَلَفَّ الْفَخِذَیْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَیْنِ فَہُوَ لِلَّذِی رُمِیَتْ بِہِ وَإِنْ جَائَ تْ بِہِ أَصْفَرَ قَضِیفًا سَبْطًا فَہُوَ لِہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ۔ فَجَائَ تْ بِہِ عَلَی صِفَۃِ الْبَغِیِّ قَالَ أَیُّوبُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ: کَانَ الرَّجُلُ الَّذِی قَذَفَہَا بِہِ ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ شَرِیکَ بْنَ سَحْمَائَ وَکَانَ أَخَا الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ أَخِی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ لأُمِّہِ وَکَانَتْ أُمُّہُ سَوْدَائَ وَکَانَ شَرِیکٌ یَأْوِی إِلَی مَنْزِلِ ہِلاَلٍ وَیَکُونُ عِنْدَہُ قَالَ الشَّیْخُ فَسَمَّی کَلِمَۃَ اللِّعَانِ حَلِفًا۔[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٥٢٩٤) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو ہلال بن امیہ سے کہا گیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے ٨٠ کوڑے لگائیں گے، فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت زیادہ عدل فرمائیں گے کہ وہ مجھے ٨٠ کوڑے لگائیں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھ کر یقین کیا ہے اور سن کر علیحدہ کیا ہے، اللہ کی قسم ! آپ مجھے کوڑے نہ لگائیں گے تو لعان والی آیات نازل ہوئیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میاں، بیوی دونوں کو بلایا جب آیت نازل ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لیے تیار ہے ؟ تو ہلال نے کہا : میں سچا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ میں سچا ہوں۔ یہ چار مرتبہ قسم کھاؤ۔ اگر میں جھوٹا ہوا تو میرے اوپر اللہ کی لعنت۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچویں قسم پر اسے روکنا، یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے، اس نے قسم اٹھا کر چار مرتبہ یہ کہا، اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ اگر یہ مرد سچا ہو تو میرے اوپر اللہ کی لعنت۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس عورت کو پانچویں قسم پر روکنا، کیونکہ یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے، وہ جھجکی اور اعتراف کا ارادہ کیا، پھر اس نے کہا : میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں، موٹی پیٹھ، موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو یہ شریک بن سحماء کا ہے، اگر یہ زرد رنگ اور سیدھے بالوں والا جنم دے تو یہ ہلال بن امیہ کا ہے تو اس نے زنا کی صفات والے بچے کو جنم دیا۔ ایوب اور محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے جس مرد پر اپنی بیوی کے بارے میں الزام لگایا وہ براء بن مالک کا بھائی تھا، اس کی والدہ سیاہ رنگ کی تھی اور شریک ہلال کے گھر میں رہتا تھا۔ شیخ نے لعان کو قسم قرار دیا ہے۔