(۱۵۳۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ قَالَ : جَائَ عُوَیْمِرٌ الْعَجْلاَنِیُّ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِیٍّ فَقَالَ : یَا عَاصِمُ بْنَ عَدِیٍّ سَلْ لِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً فَقَتَلَہُ أَیُقْتَلُ بِہِ أَمْ کَیْفَ یَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِیَّ -ﷺ- فَعَابَ النَّبِیُّ -ﷺ- الْمَسَائِلَ فَلَقِیَہُ عُوَیْمِرٌ فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ : مَا صَنَعْتُ إِنَّکَ لَمْ تَأْتِنِی بِخَیْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَعَابَ الْمَسَائِلَ۔ قَالَ عُوَیْمِرٌ : وَاللَّہِ لآتِیَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَلأَسْأَلَنَّہُ فَأَتَاہُ فَوَجَدَہُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ فِیہِمَا فَدَعَاہُمَا فَلاَعَنَ بَیْنَہُمَا فَقَالَ عُوَیْمِرٌ : لَئِنِ انْطَلَقْتُ بِہَا لَقَدْ کَذَبْتُ عَلَیْہَا فَفَارَقَہَا قَبْلَ أَنْ یَأْمُرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : انْظُرُوہَا فَإِنْ جَائَ تْ بِہِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِیمَ الأَلْیَتَیْنِ فَمَا أُرَاہُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ وَإِنْ جَائَ تْ بِہِ أُحَیْمِرَ کَأَنَّہُ وَحَرَۃٌ فَمَا أُرَاہُ إِلاَّ کَاذِبًا ۔ فَجَائَتْ بِہِ عَلَی النَّعْتِ الْمَکْرُوہِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَصَارَتْ سُنَّۃَ الْمُتَلاَعِنَیْنِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٥٣١٢) سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی کے پاس آئے اور کہا : اے عاصم بن عدی ! ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کریں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے اگر وہ قتل کرے کیا اسے قتل کیا جائے گا یا وہ کیا کرے۔ عاصم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر عیب لگایا، عویمر نے عاصم سے پوچھا : کیا کیا بھئی ؟ عاصم نے کہا : میں نے کچھ نہیں کیا، تیری طرف سے بھلائی نہیں آئی، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کرنے والے پر عیب لگایا تو عویمر کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ کے پاس آکر ضرور سوال کروں گا، جب عویمر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو ان کے بارے میں قرآن نازل ہوچکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلا کر لعان کروا دیا، عویمر نے کہا : اگر میں اس کو ساتھ لے کر جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم دینے سے پہلے ہی بیوی کو جدا کردیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا خیال رکھنا، اگر یہ زیادہ سیاہ، موٹے بڑے بڑے سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر سچا ہے۔ اگر بچہ سرخ رنگ کا ہو گویا کہ کھی میرا ہے پھر میرا خیال ہے کہ عویمر جھوٹا ہے۔ اس نے انھیں مکروہ اوصاف پر بچے کو جنم دیا، ابن شہاب کہتے ہیں : یہ دو لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔