hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1533

.

سنن البيهقي

1533
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ إِسْحَاقُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ: کَانَتِ امْرَأَۃٌ یُقَالُ لَہَا أُمُّ الْعَلاَئِ قَالَتْ: حَیْضَتِی مُنْذُ أَیَّامِ الدَّہْرِ یَوْمَانِ۔ قَالَ وَقَالَ إِسْحَاقُ: وَصَحَّ لَنَا فِی زَمَانِنَا عَنْ غَیْرِ وَاحِدَۃٍ أَنَّہَا قَالَتْ حَیْضَتِی َوْمَانِ۔ وَقَالَ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ: عِنْدِی امْرَأَۃٌ تَحِیضُ یَوْمَیْنِ۔ وَفِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ امْرَأَۃً أُثْبِتَ لِی أَنَّہَا لَمْ تَزَلْ تَحِیضُ یَوْمًا وَلاَ تَزِیدُ عَلَیْہِ ، وَأُثْبِتَ لِی عَنْ نِسَائٍ أَنَّہُنَّ لَمْ یَزَلْنَ یَحِضْنَ أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ ، وَعَنْ نِسَائٍ أَنَّہُنَّ لَمْ یَزَلْنَ یَحِضْنَ خَمْسَۃَ عَشْرَ۔ وَعَنِ امْرَأَۃٍ أَوْ أَکْثَرَ أَنَّہَا لَمْ تَزَلْ تَحِیضُ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ ، وَکَیْفَ زَعَمْتَ أَنَّہُ لاَ یَکُونَ مَا عَلِمْنَا أَنَّہُ یَکُونَ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیٍّ وَشُرَیْحٍ: أَنَّہُمَا جَوَّزَا ثَلاَثَ حِیَضٍ فِی شَہْرٍ وَخَمْسِ لَیَالٍ وَذَلِکَ یَرِدُ فِی کِتَابِ الْعِدَدِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَنَحْنُ نَقُولُ بِمَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لأَنَّہُ مُوَافِقٌ لَمَّا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ لَمْ یَجْعَلْ لِلْحَیْضِ وَقْتًا۔ وَاحْتَجَّ بِحَدِیثِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَاتْرُکِی الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا ذَہَبَ قَدْرُہَا فَاغْسِلِی الدَّمَ عَنْکِ وَصَلِّی))۔ [صحیح]
(١٥٣٤) (الف) عبد الرحمن بن مہدی کہتے ہیں کہ ایک عورت جس کو ام علاء کہا جاتا تھا کہتی ہیں کہ میرے حیض کی ساری مدت دو دن ہیں۔ (ب) صحیح ثابت ہے کہ ہمارے زمانے میں ایک عورت تھی وہ کہتی تھی کہ اسے دو دن حیض آتا ہے۔ (ج) یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ میری پاس عورت ایک ہے اس کو دو دن حیض آتا ہے۔ (د) امام شافعی (رح) سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت دیکھی جسے ایک دن سے زیادہ حیض نہیں آتا اور اس کی یہ عادت ہمیشہ رہی۔ اور کئی ایسی عورتیں جنھیں تین دن سے بھی کم حیض آتا۔ بعض عورتیں پندرہ دن۔ ایک عورت تھی جسے تیرہ دن حیض آتا تھا۔ (ر) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا علی اور شریح سے منقول ہے کہ ان دونوں نے مہینے میں تین اور پانچ دن کو جائز قرار دیا۔ اس کی بحث کتاب العدد میں آئے گی۔ (س) امام شافعی (رح) فرماتی ہیں کہ ہم سیدنا علی (رض) کی روایت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روایت کے موافق سمجھیں گے کہ انھوں نے حیض کی تعیین نہیں کی۔ ان کی دلیل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث ہے : جب تیرے حیض کے دن آجائیں تو نماز چھوڑ دے۔ جب ان کی میعاد پوری ہوجائے جائے تو اپنے جسم سے خون کو دھو ڈال اور نماز پڑھ۔