hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15350

.

سنن البيهقي

15350
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۳۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنِی أَبُو سَہْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنَّی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ رَجُلاً رَأَی مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً أَیَقْتُلُہُ فَتَقْتُلُونَہُ أَمْ کَیْفَ یَفْعَلُ بِہِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مَا ذُکِرَ فِی الْقُرْآنِ مِنَ التَّلاَعُنِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَدْ قُضِیَ فِیکَ وَفِی امْرَأَتِکَ ۔ قَالَ : فَتَلاَعَنَا وَأَنَا شَاہِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ أَمْسَکْتُہَا فَقَدْ کَذَبْتُ عَلَیْہَا فَفَارَقَہَا فَکَانَتْ سُنَّۃً بَعْدُ فِیہِمَا أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الْمُتَلاَعِنَیْنِ وَکَانَتْ حَامِلاً فَأَنْکَرَ حَمْلَہَا وَکَانَ ابْنُہَا یُدْعَی إِلَیْہَا ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّۃُ فِی الْمَوَارِیثِ أَنْ یَرِثَہَا وَتَرِثَ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔ وَقَدْ رُوِّینَا قَوْلَہُ وَکَانَتْ حَامِلاً فِی حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَیُونُسَ بْنِ یَزِیدَ الأَیْلِیِّ وَعَنِ الزُّہْرِیِّ فِی قِصَّۃِ عُوَیْمِرٍ الْعَجْلاَنِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٣٤٤) زہری سہل بن سعد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا ایسے شخص کے بارہ میں کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے کیا وہ اس کو قتل کر دے تم اس کو قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے ؟ اس کے ساتھ اللہ رب العزت نے لعان کے بارے میں قرآن میں ذکر کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ کردیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں نے لعان کیا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر میں اس کو اپنی بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو اس نے جدا کردیا تو اس کے بعد یہ طریقہ جاری ہوگیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔ وہ عورت حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کا انکار کردیا تھا اور بیٹے کی نسبت ماں کی طرف کردی گئی۔ پھر وراثت میں ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا وارث ہوگا جو حصے اللہ نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔