(۱۵۳۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَیْمَنَ یَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَبُو الزُّبَیْرِ یَسْمَعُ قَالَ : کَیْفَ تَرَی فِی رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ حَائِضًا۔قَالَ : طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لِیُرَاجِعْہَا ۔ فَرَدَّہَا عَلَیَّ وَقَالَ : إِذَا طَہَرَتْ فَلْیُطَلِّقْ أَوْ یُمْسِکْ ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَرَأَ النَّبِیُّ -ﷺ- { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوہُنَّ } فِی قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے]
(١٥٣٨١) ابن جریج فرماتے ہیں : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ اس نے عبدالرحمن بن ایمن سے سنا کہ عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) سے سوال کیا گیا اور ابو زبیر (رض) سن رہے تھے، فرماتے ہیں : آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دی ؟ فرماتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں طلاق دی، عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اور کہا کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اس سے رجوع کرے پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور فرمایا : ” جب وہ پاک ہوجائے تو وہ اس کو طلاق دے دے یا اس کو روک لے۔ “ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیات کی تلاوت فرمائی : { یاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوہُنَّ } ” اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو عدت میں طلاق دو ۔ “