(۱۵۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ وَغَیْرُہُ یُقَالُ قَدْ أَقْرَأَتِ الْمَرْأَۃُ إِذَا دَنَا حَیْضُہَا وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُہْرُہَا قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فَأَصْلُ الأَقْرَائِ إِنَّمَا ہِیَ وَقْتُ الشَّیْئِ إِذَا حَضَرَ قَالَ الأَعْشَی یَمْدَحُ رَجُلاً بِغَزْوَۃٍ غَزَاہَا :
مُوَرَّثَۃٍ مَالاً وَفِی الذِّکْرِ رِفْعَۃً لِمَا ضَاعَ فِیہَا مِنْ قُرُوئٍ نِسَائِکَا فَالْقُرُوء ُ ہَا ہُنَا الأَطْہَارُ لأَنَّ النِّسَائَ لاَ یُوطَأْنَ إِلاَّ فِیہَا۔
(١٥٤٠١) ہم کو علی بن عبدالعزیز نے خبر دی کہ ابو عبید فرماتے ہیں کہ اصمعی اور دوسروں نے کہا کہ اقرات المرأۃ اس وقت ہی کہا جاتا ہے جب حیض کا وقت قریب ہو اور اس وقت بھی کہا جاتا ہے جب طہر قریب ہو۔ ابو عبید فرماتے ہیں : اصل میں اقرأ کسی چیز کے وقت کا حاضر ہونا ہے۔ جیسے ایک شاعر ایک آدمی کی غزوہ میں تعریف کرتا ہے :
مُوَرَّثَۃٍ مَالاً وَفِی الذِّکْرِ رِفْعَۃً لِمَا ضَاعَ فِیہَا مِنْ قُرُوئٍ نِسَائِکَا
مال کی طلب و حصول اور نام کی بلندی میں اس سبب سے ضائع ہوگئے ان کی عورتوں کے قروء تو یہاں قروء سے مراد طہر ہے کیونکہ عورتوں سے وطی طہر ہی میں ہوتی ہے۔