(۱۵۴۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ زَوْجُہَا فَعَرَّضَ لَہَا رَجُلٌ بِالْخِطْبَۃِ حَتَّی إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجَہَا فَلَبِثَتْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَنِصْفًا ثُمَّ وَلَدَتْ فَبَلَغَ شَأْنُہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَی الْمَرْأَۃِ فَسَأَلَہَا فَقَالَتْ : ہُوَ وَاللَّہِ وَلَدُہُ۔ فَسَأَلَ عُمَرُ عَنِ الْمَرْأَۃِ فَلَمْ یُخْبَرْ عَنْہَا إِلاَّ خَیْرًا ثُمَّ إِنَّہُ أَرْسَلَ إِلَی نِسَائِ الْجَاہِلِیَّۃِ فَجَمَعَہُنَّ ثُمَّ سَأَلَہُنَّ عَنْ شَأْنِہَا وَخَبَرِہَا فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ لَہَا : ہَلْ کُنْتِ تَحِیضِینَ؟ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَتْ : مَتَی عَہْدُکِ بِزَوْجِکِ؟ قَالَتْ : قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ۔ قَالَتْ : أَنَا أُخْبِرُکَ خَبَرَ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ حَمَلَتْ مِنْ زَوْجِہَا وَکَانَتْ تُہَرَاقُ عَلَیْہِ فَحَشَّ وَلَدُہَا عَلَی الْہِرَاقَۃِ حَتَّی إِذَا تَزَوَّجَتْ وَأَصَابَہُ الْمَاء ُ مِنْ زَوْجِہَا انْتَعَشَ وَتَحَرَّکَ عِنْدَ ذَلِکَ فَانْقَطَعَ عَنْہَا الدَّمُ فَہِیَ حِینَ وَلَدَتْ وَلَدَتْہُ لِتَمَامِ سِتَّۃِ أَشْہُرٍ قَالَتِ النِّسَاء ُ : صَدَقَتْ ہَذَا شَأْنُہَا فَفَرَّقَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَہُمَا۔ [صحیح]
(١٥٤٢٦) عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا، اس کو ایک دوسرے شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ جب وہ حلال ہوگئی تو اس نے اس سے شادی کرلی، وہ ٹھہری رہی ساڑھے چار مہینے، پھر اس نے بچے کو جنم دے دیا۔ پس یہ معاملہ عمر بن خطاب (رض) کے پاس پہنچا، انھوں نے عورت کی طرف (قاصد) بھیجا اور اس سے سوال کیا، اس نے کہا : اللہ کی قسم یہ میرا بچہ ہے، عمر (رض) نے عورت کے بارے میں سوال کیا اور ان کو اس عورت کے بارے میں خیر کی خبر دی گئی۔ پھر انھوں نے جاہلیت کی طرف عورتوں کی پیغام بھیجا، ان کو جمع کیا اور ان سے اس کے معاملے اور اس کی خبر کے بارے میں سوال کیا تو ایک عورت نے ان میں سے اس عورت سے کہا : کیا تو حائضہ ہوئی تھی، اس نے کہا : ہاں میں حائضہ ہوئی تھی۔ اس عورت نے کہا کب تیرے خاوند کے ہوتے ہوئے تیرے ساتھ یہ معاملہ ہوا اس نے کہا : اس کے وفات پانے سے پہلے، اس عورت نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں آپ کو اس کی خبر دیتی ہوں، یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے حاملہ ہوئی اور یہ اس پر خون کو بہاتی تھی اس کا بچہ خون کے بہہ جانے کی وجہ سے سوکھ گیا حتیٰ کہ جب اس نے دوسرے خاوند سے شادی کی اس کو اس خاوند سے پانی پہنچا، یہ پھر سے تر و تازہ ہوگیا اور حرکت کرنے لگا اور اس وجہ سے اس کا خون بھی بند ہوگیا، پس جب اس نے بچہ جنا ہے تو بچہ مکمل چھ ماہ کا جنم دیا ہے۔ عورتوں نے کہا : اس نے اس کے معاملے کو سچا بیان کیا ہے۔ پس عمر (رض) ان دونوں کو جدا کردیا۔