(۱۵۴۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِی حُبَیْشٍ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لاَ أَطْہُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَۃَ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا ذَلِکِ عِرْقٌ وَلَیْسَ بِالْحَیْضَۃِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَاتْرُکِی الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا ذَہَبَ قَدْرُہَا فَاغْسِلِی الدَّمَ عَنْکِ وَصَلِّی))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔
وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی رَجَائٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ فَخَالَفَہُمْ فِی مَتْنِہِ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ فَقَالَ : لاَ ، إِنَّ ذَلِکِ عِرْقٌ ، وَلَکِنْ دَعِی الصَّلاَۃَ قَدْرَ الأَیَّامِ الَّتِی کُنْتِ تَحِیضِینَ فِیہَا ، ثُمَّ اغْتَسِلِی وَصَلِّی ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ شَکَّ فِیہِ۔ [صحیح]
(١٥٤٨) (الف) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت أبی حبیش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیعرض کیا : میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز کو چھوڑدوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں، یہ رگ سے ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے آپ سے خون دھو اور نماز پڑھ۔ “
(ب) اس روایت کے متن میں اختلاف ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں یہ تو رگ ہے لیکن تو نماز اتنے دن چھوڑ دے جتنے دن اپنے حیض کے ایام میں چھوڑتی تھی پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔ (ج) ابو اسامہ والی روایت میں شک ہے۔