(۱۵۴۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ فِیہِ قَالَ حُمَیْدٌ فَقُلْتُ لِزَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَمَا رَأْسُ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَیْنَبُ : کَانَتِ الْمَرْأَۃُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ إِذَا ہَلَکَ زَوْجُہَا عَمَدَتْ إِلَی شَرِّ بَیْتٍ لَہَا فَجَلَسَتْ فِیہِ حَتَّی إِذَا مَرَّتْ بِہَا سَنَۃٌ خَرَجَتْ وَرَمَتْ بِبَعْرَۃٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٥٤٦٦) حمید بن نافع انصاری سے روایت ہے، اس نے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے اور اس میں کچھ زیادہ کیا ہے۔ حمید نے کہا : میں نے زینب کو کہا : سال کی ابتداء کیا ہے ؟ زینب (رض) فرماتی ہیں جاہلیت میں جب عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ بدترین گھر کا قصد کرتی جو اس کے لیے ہوتا، وہ اس میں بیٹھ جاتی یہاں تک کہ جب اس پر سال گزر جاتا تو وہ نکلتی اور لید کا ٹکڑا مارتی ، یعنی اپنے جسم سے لگا کر پھینکتی اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔