(۱۵۴۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ : طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلاَثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَۃَ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : انْتَقِلِی إِلَی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ ۔ قَالَ إِسْحَاقُ فَلَمَّا حَدَّثَ بِہِ الشَّعْبِیُّ حَصَبَہُ الأَسْوَدُ وَقَالَ : وَیْحَکَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِی بِمِثْلِ ہَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ : إِنْ جِئْتِ بِشَاہِدَیْنِ یَشْہَدَانِ أَنَّہُمَا سَمِعَاہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِلاَّ لَمْ نَتْرُکْ کِتَابَ اللَّہِ بِقَوْلِ امْرَأَۃٍ وَہُوَ قَوْلُ اللَّہِ {وَلاَ تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} ۔ [صحیح]
(١٥٤٧٩) فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہوجا۔ اسحاق کہتے ہیں : جب اس کو شعبی نے بیان کیا اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا : تیرے لیے ہلاکت ہو تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے۔ وہ عمر (رض) کے پاس آئی، عمر (رض) نے کہا : اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے وگرنہ ہم کتاب ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کو نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے : { لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١]” تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر وہ واضح گمراہی کو آئیں۔ “