hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15499

.

سنن البيهقي

15499
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۴۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَیْنَ تَعْتَدُّ الْمُطَلَّقَۃُ ثَلاَثًا؟ قَالَ : تَعْتَدُّ فِی بَیْتِہَا۔ قَالَ قُلْتُ : أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ؟ قَالَ : تِلْکَ الْمَرْأَۃُ الَّتِی فَتَنَتِ النَّاسَ إِنَّہَا اسْتَطَالَتْ عَلَی أَحْمَائِہَا بِلِسَانِہَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلاً مَکْفُوفَ الْبَصَرِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَعَائِشَۃُ وَمَرْوَانُ وَابْنُ الْمُسَیَّبِ یَعْرِفُونَ أَنَّ حَدِیثَ فَاطِمَۃَ فِی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ کَمَا حَدَّثَتْ وَیَذْہَبُونَ إِلَی أَنَّ ذَلِکَ إِنَّمَا کَانَ لِلشَّرِّ وَیَزِیدُ ابْنُ الْمُسَیَّبِ تَبْیِینَ اسْتِطَالَتِہَا عَلَی أَحْمَائِہَا وَیَکْرَہُ لَہَا ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَغَیْرُہُ أَنَّہَا کَتَمَتْ فِی حَدِیثِہَا السَّبَبَ الَّذِی بِہِ أَمَرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَعْتَدَّ فِی غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِہَا خَوْفًا أَنْ یَسْمَعَ ذَلِکَ سَامِعٌ فَیَرَی أَنَّ لِلْمَبْتُوتَۃِ أَنْ تَعْتَدَّ حَیْثُ شَائَ تْ۔ [صحیح]
(١٥٤٩٣) عمرو بن میمون وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے کہا : طلاق ثلاثہ والی عورت عدت کہاں گزارے ؟ فرمایا : اپنے گھر میں عدت گزارے۔ میں نے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ بنت قیس کو حکم نہیں دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارے۔ فرمایا : یہ وہ عورت ہے جس نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ اپنے جیٹھ پر بدزبانی کرتی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) مروان اور ابن مسیب یہ جانتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ کو اجازت دی تھی کہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب اور دوسرے یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں سبب بیان نہیں ہوا ۔ اس لیے یہ خاوند کے علاوہ کسی اور گھر میں عدت گزارنے کو ناپسند کرتے ہیں اس ڈر سے کہ جو بھی اسے سنے گا وہ یہی کہے گا کہ وہ جہاں مرضی عدت گزار لے۔