(۱۵۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ وَقَالَ : وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِی وَصَلِّی۔ أَوْ قَالَ: اغْسِلِی عَنْکِ الدَّمَ وَصَلِّی۔
وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ زِیَادَۃُ الْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلاَۃٍ ، وَلَیْسَتْ بِمَحْفُوظَۃٍ ، وَرَوَاہُ أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ وَذَکَرَ فِیہِ الاِغْتِسَالَ إِلاَّ أَنَّہُ خَالَفَ الْجَمَاعَۃُ فِی سِیَاقِہِ ، وَفِی الْخَبَرِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ کَانَ یَشُکُّ فِیہِ۔ [صحیح]
(١٥٥٦) (الف) ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ہم معنی روایت بیان کیہیکہجب خون چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ، یا فرمایا : اپنے آپ سے خون دھو اور نماز پڑھ۔ “ (ب) اس میں یہ بھی ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کر، لیکنیہ غیر محفوظ ہے۔ ابواسامہ نے ہشام سے روایت کی ہے، اس میں غسل کا ذکر ہے مگر محدثین کی جماعت نے اس کے سیاق کی مخالفت کی بنا پر ہے۔