(۱۵۵۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ : شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی الْقَصَّافِ عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ وَلَدَتْ لِسِتَّۃِ أَشْہُرٍ فَہَمَّ بِرَجْمِہَا فَبَلَغَ ذَلِکَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہَا رَجْمٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہُ فَقَالَ {وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ} وَقَالَ { وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلاَثُونَ شَہْرًا } فَسِتَّۃُ أَشْہُرٍ حَمْلُہُ حَوْلَیْنِ تَمَامٌ لاَ حَدَّ عَلَیْہَا أَوْ قَالَ لاَ رَجْمَ عَلَیْہَا قَالَ فَخَلَّی عَنْہَا ثُمَّ وَلَدَتْ۔ [ضعیف]
(١٥٥٤٩) ابو حرب بن ابو اسود دیلی سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے چھ ماہ کے بعد بچے کو جنم دیا تھا۔ عمر (رض) نے اس کے رجم کرنے کا ارادہ فرمایا۔ یہ بات علی (رض) کو پہنچی۔ انھوں نے فرمایا : اس پر رجم نہیں ہے۔ یہ بات عمر (رض) کو پہنچی تو آپ نے ان کی طرف قاصد کو بھیجا کہ وہ اس سے سوال کرے اور فرمایا : { وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ } ” اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں مکمل دو سال جو ارادہ کریں رضاعت کو مکمل کرنے کا۔ [البقرۃ ٢٣٣] اور فرمایا : { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰـثُوْنَ شَہْرًا } ” اور حمل اور دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔ “ [الاحقاف ١٥] چھ ماہ اس کے حمل کی مدت اور دو سال اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت ہے۔ اس پر حد نہیں ہی یا فرمایا : اس پر رجم نہیں ہے۔ چنانچہ اس کو عمر (رض) نے چھوڑ دیا، پھر اس نے بچے کو جنم دیا۔