(۱۵۵۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِامْرَأَۃٍ قَدْ وَلَدَتْ فِی سِتَّۃِ أَشْہُرٍ فَأَمَرَ بِہَا أَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ ذَلِکَ عَلَیْہَا قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلاَثُونَ شَہْرًا} وَقَالَ {وَفِصَالُہُ فِی عَامَیْنِ} وَقَالَ {وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ} فَالرَّضَاعَۃُ أَرْبَعَۃٌ وَعِشْرُونَ شَہْرًا وَالْحَمْلُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ فَأَمَرَ بِہَا عُثْمَانُ أَنْ تُرَدَّ فَوُجِدَتْ قَدْ رُجِمَتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٥٥٥١) مالک فرماتے ہیں کہ ان کو حدیث پہنچی کہ عثمان بن عفان (رض) کے پاس ایک عورت کو لایا گیا۔ اس نے چھ ماہ میں بچے کو جنم دیا۔ عثمان بن عفان (رض) نے اس کے رجم کرنے کا حکم دیا تو علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : اس پر رجم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰـثُوْنَ شَہْرًا } [الاحقاف ١٥] ” اور حمل اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔ “ [الاحقاف ١٥] اور فرمایا : وَفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ ” اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت دو سال ہے اور فرمایا : { وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ } [البقرۃ ٢٣٣] مدت رضاعت چوبیس ماہ ہے اور مدت حمل چھ ماہ ہے۔ عثمان (رض) نے اس کے بارے میں حکم دیا، اس کو لوٹایا گیا اور اس کو پایا گیا تو اسے رجم کردیا گیا تھا اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔