(۱۵۵۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً ہَلَکَ عَنْہَا زَوْجُہَا فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِینَ حَلَّتْ فَمَکَثَتْ عِنْدَ زَوْجِہَا أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَنِصْفَ ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا فَجَائَ زَوْجُہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَدَعَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نِسْوَۃً مِنْ نِسَائِ الْجَاہِلِیَّۃِ قُدَمَائَ فَسَأَلَہُنَّ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ : أَنَا أُخْبِرُکَ عَنْ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ ہَلَکَ زَوْجُہَا حِینَ حَمَلَتْ فَأُہْرِیقَتِ الدِّمَاء ُ فَحَشَّ وَلَدُہَا فِی بَطْنِہَا فَلَمَّا أَصَابَہَا زَوْجُہَا الَّذِی نَکَحَتْ وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَاء ُ تَحَرَّکَ الْوَلَدُ فِی بَطْنِہَا وَکَبِرَ فَصَدَّقَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَبْلُغْنِی عَنْکُمَا إِلاَّ خَیْرٌ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالأَوَّلِ۔ [ضعیف]
(١٥٥٥٩) عبداللہ بن عبداللہ بن ابو امیہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ اس نے چار ماہ اور دس دن عدت کے گزارے پھر جب وہ حلال ہوگئی تو اس نے شادی کرلی۔ وہ اپنے خاوند کے پاس ساڑھے چار ماہ رہی، پھر اس نے مکمل بچے کو جنم دے دیا۔ اس کا خاوند عمر بن خطاب کے پاس آیا اور ان کے سامنے معاملے کا ذکر کیا۔ عمر بن خطاب (رض) نے پہلی جاہلیت کی عورتوں کو بلایا۔ ان سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا۔ ان عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا : میں آپ کو اس عورت کے بارے میں بتاتی ہوں۔ اس کا خاوند فوت ہوگیا جس سے وہ حاملہ ہوئی اور پھر اس کا خون بہتا تھا۔ اس کا بچہ اس کے پیٹ میں خشک ہوگیا۔ جب اس کا وہ خاوند جس سے اس نے نکاح کیا اس کو پہنچا اور بچے کو پانی پہنچا۔ بچے نے پیٹ میں حرکت کی اور بڑا ہوا۔ عمر بن خطاب (رض) نے اس کی تصدیق کی اور ان دونوں کو جدا جدا کردیا۔ عمر (رض) نے فرمایا : مجھے تم دونوں کے بارے میں سوائے خیر کے کوئی خبر نہیں ملی اور بچے کو پہلے کی طرف لوٹا دیا۔