(۱۵۵۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ زَائِدَۃَ بْنِ قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ عَنْ حَنَشٍ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَیْسَ الَّذِی قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِشَیْئٍ یَعْنِی فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ ہِیَ امْرَأَۃُ الْغَائِبِ حَتَّی یَأْتِیَہَا یَقِینُ مَوْتِہِ أَوْ طَلاَقُہَا وَلَہَا الصَّدَاقُ مِنْ ہَذَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِہَا وَنِکَاحُہُ بَاطِلٌ۔
وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: ہِیَ امْرَأَۃُ الأَوَّلِ دَخَلَ بِہَا الآخِرُ أَوْ لَمْ یَدْخُلْ بِہَا۔
وَہُوَ قَوْلُ النَّخَعِیِّ وَالْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِمَا۔ [ضعیف]
(١٥٥٦٣) حنش سے روایت ہے کہ علی (رض) نے فرمایا : وہ بات جو عمر (رض) نے کہی ہے، کچھ بھی نہیں ہے یعنی گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں یہ اسی کی بیوی ہے جو غائب ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آجائے یا اس کی طلاق کی یقینی خبر آجائے اور اس کے لیے حق مہر ہوگا اس مرد سے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے اور اس کا نکاح باطل ہے۔
اور ہم کو سعید بن جُبیر عن علی سے روایت بیان کی گئی کہ علی (رض) نے فرمایا : یہ پہلے خاوند کی بیوی ہے اس کے ساتھ دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔