(۱۵۵۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ وَعَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَۃَ۔
أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتِ: اسْتُحِیضَتْ أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ جَحْشٍ وَہِیَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِینَ ، فَاشْتَکَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((إِنَّ ہَذِہِ لَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ ، وَلَکِنْ ہَذَا عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِی ثُمَّ صَلِّی))۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَکَانَتْ تَغْتَسِلُ لِکُلِّ صَلاَۃٍ ثُمَّ تُصَلِّی ، وَکَانَتْ تَقْعُدُ فِی مِرْکَنٍ لأُخْتِہَا زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّی إِنَّ حُمْرَۃَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَائَ۔ [صحیح]
(١٥٥٨) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ام حبیبۃ بنت جحش (رض) کا طغری عبد الرحمن بن عوف (رض) کی بیوی تھی، ان کو سات سال تک استحاضہ آتا رہا انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ حیض نہیں ہیبل کہ یہ رگ ہے، غسل کر اور نماز پڑھ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : پھر وہ نماز کے لیے غسل کرتی اور نماز پڑھتی اور اپنی بہن زینب بنت جحش (رض) کے ٹپ میں بیٹھتی تھی اور خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی۔