(۱۵۵۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : إِنَّ یَزِیدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ فَرَّقَ بَیْنَ رِجَالٍ وَنِسَائِہِمْ کُنَّ أُمَّہَاتِ أَوْلاَدِ رِجَالٍ ہَلَکُوا فَتَزَوَّجُوہُنَّ بَعْدَ حَیْضَۃٍ وَحَیْضَتَیْنِ فَفَرَّقَ بَیْنَہُمْ حَتَّی یَعْتَدِدْنَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔
قَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سُبْحَانَ اللَّہِ یَقُولُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی کِتَابِہِ { وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا} مَا ہُنَّ لَہُمْ بِأَزْوَاجٍ۔ وَبِہِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : عِدَّۃُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّیَ عَنْہَا سَیِّدُہَا حَیْضَۃٌ۔ قَالَ مَالِکٌ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَذَلِکَ الأَمْرُ عِنْدَنَا۔ [صحیح]
(١٥٥٧٨) یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا کہ یزید بن عبدالملک نے مردوں اور ان کی بیویوں کے درمیان فرق کیا ہے۔ آدمیوں کی اولاد کی مائیں تھیں وہ ہلاک ہوگئے تو انھوں نے ایک حیض یا دو حیض کے یعد شادی کرلی۔ ان کے درمیانتفریق کردی یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزاریں۔
قاسم بن محمد کہتے ہیں سبحان اللہ، اللہ پاک ہے۔ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے : { وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا } [البقرۃ ٢٣٤] ” اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔ “ ان کے لیے شوہر نہیں ہیں۔
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت جب اس کا مالک فوت ہوجائے ایک حیض ہے۔
امام مالک فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک بھی یہی مسئلہ ہے۔