(۱۵۵۸۰) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا یُوسُفُ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مَطَرٌ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ تَلْبِسُوا عَلَیْنَا سُنَّۃَ نَبِیِّنَا -ﷺ- عِدَّتُہَا عِدَّۃُ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَفِی رِوَایَۃِ یَزِیدَ عِدَّۃُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ الْحَافِظُ : قَبِیصَۃُ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو وَالصَّوَابُ لاَ تَلْبِسُوا عَلَیْنَا دِینَنَا مَوْقُوفٌ۔ [حسن]
(١٥٥٨٠) عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو خلط ملط نہ کرو۔ ام ولد کی عدت اس عورت کی عدت کی طرح چار ماہ اور دس دن ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے اور یزید کی روایت میں ہے۔ ام ولد کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔
ابوبکر بن حارث فقیہ فرماتے ہیں کہ ابو الحسن دارقطنی حافظ نے کہا : قبیصہ نے عمرو سے نہیں سنا اور درست یہ ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے دین کو خلط ملط نہ کرو۔ (یہ موقوف ہے)