(۱۵۶۴) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ قَمِیرَ امْرَأَۃِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: الْمُسْتَحَاضَۃُ تَدَعُ الصَّلاَۃَ أَیَّامَ حَیْضَتِہَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلاَۃٍ۔
قَالَ وَقَالَ الشَّعْبِیُّ: لاَ تَصُومُ وَلاَ یَغْشَاہَا زَوْجُہَا۔
فَعَادَ الْکَلاَمُ فِی غِشْیَانِہَا إِلَی قَوْلِ الشَّعْبِیِّ کَمَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ۔
وَتَرَکْنَاہُ بِمَا مَضَی مِنَ الدَّلاَلَۃِ عَلَی إِبَاحَۃِ وَطْئِہَا إِذَا تَوَلَّی حَیْضُہَا وَاغْتَسَلَتْ۔
[حسن۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۶۹۶۰]
(١٥٦٤) (الف) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ب) شعبی کہتے ہیں : روزہ نہیں رکھے گی، لیکن اس کا خاوند جماع کرے گا۔
(ج) ہم نے وطی کے جواز پر پیچھے دلائل ذکر کیے ہیں، جب اس کا حیض ختم ہوجائے اور وہ غسل کرلے۔