hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15656

.

سنن البيهقي

15656
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۶۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی حَدَّثَنِی عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَمْعَۃَ أَنَّ أُمَّہُ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ أُمَّہَا أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَانَتْ تَقُولُ : أَبَی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ أَحَدًا بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ : وَاللَّہِ مَا نَرَی ہَذِہِ إِلاَّ رُخْصَۃً أَرْخَصَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِسَالِمٍ خَاصَّۃً فَمَا ہُوَ بِدَاخِلٍ عَلَیْنَا أَحَدٌ بِہَذِہِ الرَّضَاعَۃِ وَلاَ رَائِینَا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِذَا کَانَ ہَذَا لِسَالِمٍ خَاصَّۃً فَالْخَاصُّ لاَ یَکُونُ إِلاَّ مَخْرَجًا مِنْ حُکْمِ الْعَامَّۃِ وَلاَ یَجُوزُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ رَضَاعُ الْکَبِیرِ لاَ یُحَرِّمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦٥٠) ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے ابو عبیدہ بن عبداللہ بن زمیہ نے خبر دی کہ اس کی ماں زینب بنت ابی سلمہ نے اس کو خبر دی کہ اس کی ماں ام سلمہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ فرماتی ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام بیویوں نے انکار کیا ہے کہ ان پر کوئی ایک رضاعت کے سبب داخل ہو اور انھوں نے عائشہ (رض) سے کہا : اللہ کی قسم ! ہم سمجھتی ہیں یہ رخصت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاص سالم کو دی تھی۔ وہ کون ہوتا ہے جو ہمارے اوپر اس رضاعت کے ساتھ داخل ہو اور نہ ہی کوئی ہمیں دیکھے۔ اس کو مسلم نے اسی طرح اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : جب یہ سالم کے لیے خاص ہے تو خاص بھی عام کے حکم سے نکالا ہوتا ہے اور جائز نہیں مگر یہ کہ کبیر کی رضاعت تو حرام نہ کیا جائے۔