hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15718

.

سنن البيهقي

15718
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۷۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ وَہُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا وَکِیلُہُ بِشَعِیرٍ فَسَخِطَتْہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا لَکِ عَلَیْنَا مِنْ شَیْئٍ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ لَہَا : لَیْسَ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ ۔وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ أُمِّ شَرِیکٍ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ تِلْکَ الْمَرْأَۃَ یَغْشَاہَا أَصْحَابِی اعْتَدِّی فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِینِی ۔ قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَکَرْتُ لَہُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ وَأَبَا جَہْمٍ خَطَبَانِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَلاَ یَضَعُ عَصَاہُ عَنْ عَاتَقِہِ وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَصُعْلُوکٌ لاَ مَالَ لَہُ انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ۔ قَالَتْ : فَکَرِہْتُہُ فَقَالَ : انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ۔ فَنَکَحْتُہُ فَجَعَلَ اللَّہُ فِیہِ خَیْرًا وَاغْتَبَطْتُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۴۸۰]
(١٥٧١٢) ابو سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن حفص نے اسے طلاق بائنہ دے دی اور وہ غائب ہوگیا۔ اس نے عمرو بن حفص کی طرف فاطمہ بنت قیسکو اپنا وکیل بنا کر بھیجا، وہ اس پر ناراض ہوئی۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ اس نے یہ تمام قصہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور اس کو حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک کے گھر میں گزارے ، پھر فرمایا : وہ عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار ، وہ نابینا آدمی ہے تو اپنے کپڑے بھی تبدیل کرے گی اور جب تو حلال ہوجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ کہتی ہے : جب میں حلال ہوگئی تو میں نے آپ سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان اور ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ کہتی ہیں : میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ نے فرمایا : تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے۔ میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ اللہ نے اس میں خیر کردی اور میں رشک کیا کرتی۔ اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے مالک سے صحیح میں روایت کیا ہے۔