(۱۵۷۲۶) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَہْلِہَا فَدُفِعْتُ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْمَبْتُوتَۃِ فَقَالَ : تَعْتَدُّ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا۔ فَقُلْتُ : فَأَیْنَ حَدِیثُ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ؟ فَقَالَ : ہَاہْ وَوَصَفَ أَنَّہُ تَغَیَّظَ وَقَالَ : فَتَنَتْ فَاطِمَۃُ النَّاسَ کَانَتْ بِلِسَانِہَا ذَرَابَۃٌ فَاسْتَطَالَتْ عَلَی أَحْمَائِہَا فَأَمَرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ۔ [ضعیف]
(١٥٧٢٦) عمرو بن میمون بن مہران اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا، میں نے اس کے اہل میں سے زیادہ جاننے والے سے سوال کیا، مجھے سعید بن مسیب کی طرف بھیج دیا گیا، میں نے اس سے طلاق مبتوتہ والی کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ میں نے کہا : فاطمہ بنت قیس کی حدیث کہاں گئی ؟ کہا : اس پر افسوس کیا۔ اور بیان کیا۔ وہ غصے میں تھے اور کہا فاطمہ نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا۔ اس کی زبان میں تیزی تھی (یعنی وہ زبان دراز تھی) وہ اپنے دیوروں پر زبان درازی کرتی۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارے۔ اسی طرح اس کو ابو معاویہ ضریر نے عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے۔